Urdu

جو شخص لینن کی ذات سے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ لیکن 45 جلدوں پر مشتمل جمع شدہ کام (انگریزی میں) ایک قابل ذکر چیلنج ہے اور اسے عبور کرنے کے لئے ایک زندگی درکار ہے۔ اس لئے ویل ریڈ بُکس پبلیکیشنز کی جانب سے شائع ہونے والی لینن کی سوانح عمری ”لینن کے دفاع میں“ ایک ایسی اشاعت ہے جو باآسانی کسی کو بھی اس کے نظریات اور آج ان کی افادیت سے آگاہی آسان فہم اور مجتمع شدہ شکل میں فراہم کرے گی۔

2اور 3 دسمبر 2023ء کو لانڈھی انڈسٹریل ایریا، کراچی میں ریڈ ورکرز فرنٹ کے زیر اہتمام دو روزہ مرکزی ورکرز سوشلسٹ سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول میں کراچی سمیت ملک بھر سے عوامی اداروں اور نجی صنعتوں کے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

غزہ شہر پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقتولین کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 3 ہزار لاپتہ ہیں۔ انفرا سٹرکچر کی تباہی و بربادی، ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری، ایمبولینس اور شعبہ صحت سے منسلک افراد کی نشانہ بازی، ان سب نے فلسطینی عوام پر اسرائیلی فوج کی خونخوار بربریت کو واضح کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے فلسطین کے خلاف نسل کشی کے آغاز سے ایک مہینے بعد آرگنائزیشن آف پورٹ ڈاکرز آف بارسلونا (OEPB) نے ایک قرار داد منظور کی کہ ”ہماری بندرگاہ سے ایسا کوئی بحری جہاز روانہ نہیں ہو گا جس میں جنگی مواد شامل ہو“۔ یو ایس ٹی پی نامی ایک بندرگاہ کی یونین نے بھی 8 نومبر کو یہی فیصلہ کیا۔

دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بنگلہ دیش اس وقت سیاسی اور سماجی زلزلوں سے لرز رہا ہے۔ حزب اختلاف کے قائدین گرفتار ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر پولیس سے لڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو مظاہرین کی اموات ہو چکی ہے۔

اٹلی کے شہر موڈینا میں عالمی مارکسی رجحان کے کامریڈز نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی میں اور خاص طور پر فلسطین کی ٹریڈ یونین تنظیموں کی جانب سے اپیل کی حمایت میں FIOM نامی دھات کے کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی یونین کے اندر کمپئین کا آغاز کیا۔ ہفتے کے اختتام پر دو ہزار محنت کشوں اور نوجوانوں نے، جن میں مہاجر اور مقامی باشندے بھی شامل تھے، ایک جاندار احتجاج کیا جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیل کی فلسطین پر بمباری اور قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

کافی لیت و لعل کے بعد اسرائیلی فوج نے ہفتہ وار چھٹی کے دن غزہ میں فوج کشی کا آغاز کر دیا ہے۔ لیکن یہ مکمل فوج کشی نہیں ہے۔ اسرائیلی عسکری قائدین کو سمجھ ہے کہ اگر زمین پر ہر گلی میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو ان کے سپاہیوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ وہ حزب اللہ کو جنگ کی وسعت بڑھانے کا کوئی بہانہ بھی نہیں دینا چاہتے کیونکہ لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر ایک دوسرا فرنٹ کھل جائے گا۔ اگر سارا معاملہ یہ ہے تو پھر نیتن یاہو اور اس کے جرنیل کس چیز کی تیاری کر رہے ہیں؟

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کا حملہ ایک حیران کن جھٹکا ثابت ہوا جس نے اسرائیلی انٹیلی جنس اور عسکری قیادت کو حیران و پریشان کر دیا لیکن ہمارے لئے یہ کوئی انہونی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی اسرائیلی تاریخ کی سب سے زیادہ عوام دشمن دائیں بازو حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر جابرانہ ظلم و ستم کا براہ راست نتیجہ ہے۔

یہ خبر کہ ایور گرینڈ کمپنی نے امریکہ میں دیوالیہ سے تحفظ کی درخواست کی ہے، چین کی ریئل سٹیٹ صنعت کی حتمی موت کا نقارہ بجاتی ہے۔ کارپوریٹ دیوالیوں کا سلسلہ، ریئل سٹیٹ کی منڈی میں کساد بازاری، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور عوام کی خرید و فروخت میں گراوٹ نے چین کی حکمران نام نہاد کمیونسٹ پارٹی کے چین کے اندر ”مضبوط معاشی بڑھوتری“ کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

غمزدہ افغان خاندانوں نے SAS (برطانوی سپیشل ائر سروسز)پر ”لڑائی لڑنے کی سکت رکھنے کی عمر کے تمام مردوں۔۔۔چاہے وہ خطرہ ہوں یا نہ ہوں“ پالیسی کے تحت 2010-13ء کے دورانیے میں 80 افراد کو سفاکی سے قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ افغان جنگ کے دوران برطانوی سپیشل فورسز پر اس تازہ جنگی جرم کا الزام ایک گلی سڑی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ پر کاری ضرب ہے۔ اس الزام نے سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی ننگی بربریت کو سر عام ننگا کر دیا ہے۔

(یہ تقریر دنیا بھر کے محنت کشوں کے عظیم استاد، لینن کے ساتھ مل کر روس کے مزدور انقلاب کی قیادت کرنے اور اس کا دفاع کرنے والے عظیم راہنماء لیون ٹراٹسکی کے 83 ویں یوم شہادت کی مناسبت سے شائع کی جا رہی ہے۔ ایڈیٹر)

دنیا بھر کی بدلتی صورتحال اور سیاسی و معاشی بدامنی کے ماحول میں عالمی مارکسی رجحان (آئی ایم ٹی) کی کامیاب عالمی کانگریس 2023ء ایک شاندار اور پرامید موڑ ثابت ہوئی۔ کرونا وبا سے اپنی قوتوں کو دُگنا کرنے کے بعد یہ کانگریس نوجوانوں کے لڑاکا جذبوں اور عزم سے بھرپور تھی۔ کانگریس میں 40 سے زیادہ ممالک سے 400 سے زائد کامریڈز موجود تھے جنہوں نے انقلابی مقصد کے لیے 6 لاکھ 30 ہزار یوروز جمع کیے اور فاتحانہ اعلان کیا کہ ’کمیونسٹ آچکے ہیں!‘۔

مشہور روسی بائیں بازو کے دانشور اورعالم بورِس کاگرلتسکی کو 25 جولائی 2023ء کو روسی سیکورٹی سروسز FSB نے ”دہشت گردی کی حمایت“ کے جرم میں گرفتار کیا۔ اسے سکتفکر (Syktyvkar)، کومی رپبلک (Komi Republic) کے دالحکومت میں منتقل کر دیا گیا، جہاں عدالت نے اس کی عارضی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔ اسے 24 ستمبر تک وہاں حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

3 جولائی کو نیم شب کے وقت فلسطین میں جنین کے مہاجرین کے کیمپ پر ایک طوفان برپا ہوا، جو 48 گھنٹے جاری رہا۔ اس طوفان نے ایسے اثرات مرتب کیے جو کراہ ارض پر جہنم کی تشبیہ کرتے تھے۔ یہ طوفان اسرائیلی فوج کے ایک حملے سے متحرک ہوا۔

اس وقت دنیا بھر میں خبروں کی سرخیوں کا غلبہ یہ ہے کہ مٹھی بھر دولت مند سیاحوں، جس میں ایک برطانوی ارب پتی بھی شامل ہے، کی بازیابی کے لیے ایک بہت بڑا تلاش اور بچاؤ (سرچ اینڈ ریسکیو) آپریشن جاری ہے، جو ٹائٹینک کشتی کے ملبے کو دیکھنے کے لیے آبدوز کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہو گئے۔ دوسری طرف، گزشتہ ہفتے بحیرہ روم میں 700 تارکین وطن کے ڈوبنے کی سامنے آنے والی تفصیلات پر بین الاقوامی میڈیا میں دانستہ طور پر مکمل خاموشی برقرار ہے، جو انسانی زندگی کو نظر انداز کرنے کا براہ راست نتیجہ ہے۔

گزشتہ رات (16 جون 2023ء) پونے ایک بجے، مجھے میکسیکو سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے پرانے دوست اور کامریڈ ایسٹیبن وولکوف اب ہم میں نہیں رہے۔ اگرچہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ خبر مکمل طور پر غیر متوقع تھی کیونکہ اس سال مارچ میں ایسٹبن کی عمر 97 سال ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس خبر نے مجھے نہ صرف ایک بہت ہی پیارے دوست بلکہ عظیم انقلابی لیون ٹراٹسکی کے آخری خونی رشتہ دار کی موت پر واقعی اداس کر دیا۔

عالمی مارکسی رجحان کے برازیلی سیکشن (ایسکویرڈا مارکسسٹا) نے جنوری میں شروع ہونے والی تحریک، جس نے فرانسیسی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا کے بارے میں ریوولوشن (ہمارے فرانسسی سیکشن) کے سرکردہ رکن جیروم کا انٹرویو کیا۔ میکرون کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی کوششوں سے شروع ہونے والی یہ جدوجہد جمود کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، لیکن فرانس کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پولرائزڈ اور مشتعل ہے۔

6 جون کو میکرون کی غلیظ پنشن اصلاحات کے خلاف منظم ہونے والے چودھویں ”ڈے آف ایکشن“ کا حکومت پر اتنا ہی اثر پڑے گا جتنا تیرھویں کا ہوا تھا۔ اگر میکرون مطلوب ”تسکین“ حاصل نہیں بھی کر سکا تو وہ خوش ضرور ہو گا کہ وقتی طور پر ہی صحیح لیکن وہ پنشن اصلاحات پر جنگ جیت چکا ہے۔ لیکن فرانسیسی بورژوازی کی نظر میں یہ ایک زخموں سے چور فتح ہے جس میں فاتح مفتوح کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔

بیس سال سے زیادہ عرصہ اقتدار پر قابض رہنے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اقتدار میں مزید پانچ سال توسیع حاصل کر لی ہے۔ یہ فتح بورژوا لبرلز کی قیادت میں ایک کثیر تعداد پارٹیوں کے حزب اختلاف کو شکست دے کر حاصل کی گئی جو اردوان کی بحران زدہ صدارت کو اتوار کے دن صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہے۔