Urdu

”تاریخ کا خاتمہ اور آخری بشر“ کی اشاعت کو تیس سال گزر چکے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام پر تمسخر اڑاتے ہوئے امریکی ماہر سیاسیات محترم فرانسس فوکویاما نے حیران کن دعویٰ کیا کہ انسان تا ریخ کے خاتمے تک پہنچ چکا ہے کیونکہ انسان کا نظریاتی ارتقاء منہاج پر پہنچ چکا ہے اور مغربی لبرل جمہوریت کو عالمی پیمانے پر رائج کرنا ہی، انسانی طرزِ حکومت کی معراج ہے۔

پچھلے چند ماہ سے دنیا بھر کے میڈیا پر یورپ میں ایک نئی جنگ کے بارے میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی انٹیلی جنس سروسز کے مطابق، روس نے یوکرائن کے ساتھ اپنی سرحدوں پر ایک لاکھ پر مشتمل فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ روس نے بیلاروس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں بھی شروع کی ہیں۔ امریکہ اور نیٹو کا روس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ چلا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی ابھی تک معاملات حل نہیں کر سکا۔

نئے سال کے پہلے ہفتوں سے ہی بری خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک جانب اومیکرون نے پہلے سے ہی تباہی مچائی ہوئی تھی، جبکہ اب کینیڈا کے محنت کش گھرانے خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا بھی کریں گے۔ ڈلہاؤزی یونیورسٹی کیرپورٹ کے مطابق، اس سال اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 6 سے 8 فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے۔

پچھلے دسمبر کے دوران ایران بھر میں 230 ہڑتالیں اور احتجاج ہوئے ہیں۔ اساتذہ کا 10 سے 13 دسمبر تک کی تین روزہ ملک گیر ہڑتال، جو ٹیچرز کوآرڈینیٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہوئی، کے بعد بھی ایران بھر میں ان کے احتجاج جاری ہیں۔ خوزستان کے اندر شعبہ تیل کے محنت کشوں کی ہڑتالیں وقفے وقفے سے جاری ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق تقریباً روزانہ بڑے بڑے کارخانوں کے محنت کش غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا آغاز کر رہے ہیں۔

سرمایہ داری انسانیت کو مزید ترقی دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عرصہ دراز پہلے محنت کش طبقے کو اس نظام کو اکھاڑ کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے تھا۔ لیکن اب تک ایسا کیوں نہیں ہو سکا ہے؟ اس سوال کا جواب قیادت اور انقلابی پارٹی کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ یہ مضمون سال 2021ء کے موسم سرما میں منعقد ہونے والے کینیڈا کے مونٹریال مارکسی سکول کی ایک بحث سے ماخوذ ہے جس میں اس سوال کے مختلف پہلوؤں اور عالمی محنت کش طبقے کی شاندار تاریخ سے حاصل کردہ اسباق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اقتدار میں تقریباً 19 سال گزارنے کے بعد ترکی کے سب سے لمبے عرصے تک صدر رہنے والے ”مردِ آہن“ طیب اردوگان کی مقبولیت میں تیزی کے ساتھ کمی آتی جا رہی ہے۔ کرونا وباء کی چنگاری سے شروع ہونے والے عالمی معاشی بحران نے پہلے سے ہی بحران زدہ حکومت کو شدید لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

6 جنوری 2022ء کو قزاقستانی فوج اور سیکورٹی فورسز روس کے خصوصی دستوں کی مدد سے اس تحریک کو کچلنے کی جانب بڑھے جو سوویت یونین کے انہدام کے بعد قزاقستان کی سب سے بڑی عوامی تحریک بن گئی ہے۔

یہ رپورٹ قزاقستان میں ہمارے مندوب نے 7 گھنٹے انٹرنیٹ کی بندش کے بعد کل شام بھیجی ہے۔ ایک ہی رات میں گیس قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے ایک عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت مستعفی ہو چکی ہے لیکن عوامی غم و غصہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔

اپرو ایبو دِگنی داد (بائیں بازو کی پارٹیوں کا اتحاد) کے امیدوار گیبریئل بورِک نے 56 فیصد ووٹ حاصل کر کے صدارتی انتخابات جیت لیے ہیں۔ انتخابات میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے، جن میں 46 لاکھ ووٹ بورک کو پڑے جبکہ اس کے مقابلے میں ماضی کے آمر پنوشے کے پیروکار ہوزے اینتونیو کاست کو 10 لاکھ ووٹ کم پڑے، جس نے 44 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

اس ایک مہینے میں 230 سے زائد ہڑتالوں اور احتجاجوں نے ایران کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں 11-13 دسمبر کو منظم ہونے والی اساتذہ کی ہڑتال تھی جس میں پورے ملک کے کئی سو شہروں میں بیسیوں ہزاروں اساتذہ نے شرکت کی۔ ملا ریاست نے ردِ عمل میں 200 سے زیادہ اساتذہ اور ٹریڈ یونین ممبران کو گرفتار کر لیا ہے۔

درج ذیل میانمار کے مارکسی انقلابی میگزین ’جدوجہد‘ کا تاسیسی اداریہ ہے، جو عالمی مارکسی رجحان کے حامی ہیں۔ ملک کے سخت ترین حالات کے باوجود مارکسی انقلابیوں کا ایک گروہ پی ڈی ایف میگزین شائع کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جسے وہ اپنے فیس بک پیج ”ریولوشنری مارکسزم“ (جس کے ابھی 7 ہزار سے زائد لائکس ہو چکے ہیں) کے ذریعے تقسیم کرتے ہیں۔ میگزین کی کاپی حاصل کرنے کے لیے آپ پیج پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ قارئین کے لیے بعض نکات کی وضاحت کی خاطر مندرجہ ذیل ترجمہ برمی زبان کی اصل تحریر سے تھوڑا مختلف ہے۔

حال ہی میں کرونا وائرس کی ایک نئی پریشان کن قسم نے جنم لیا ہے جسے B.1.1.529 یا اومیکرون کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا سامنے آنا لاپرواہی کے ساتھ فوری سرمایہ دارانہ مفادات کو ترجیح دینے کا نا گزیر نتیجہ ہے، جس کے باعث اس وباء کا کوئی انت دکھائی نہیں دے رہا۔

سوڈانی انقلاب میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ ’کُو‘ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے گئے عبداللہ حمدوک کو 28 دنوں بعد فوجی حکومت نے بطورِ وزیراعظم دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ سڑکوں کے اوپر موجود عوام، جو ایک مہینے تک سویلین حکومت کی خاطر لڑتے ہوئے اپنا خون بہاتے رہے، نے اس خبر کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ ان میں اس حوالے سے غم و غصّہ پایا جا رہا ہے۔

پچھلے سات سالوں میں مودی سرکار نے انڈین عوام کے الام و مصائب میں مسلسل اضافہ کیا ہے جسے کورونا وباء نے اور بھی اذیت ناک بنا دیا ہے۔ گڈز اور سروسز ٹیکس (GST) کا اجراء، ڈی مونیٹائزیشن اور اچانک غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن نے عوام کی دگرگوں حالت کو اور بھی گھمبیر کر دیا ہے۔

ایک سال کی طویل جنگ کے بعد بالآخر انڈیا کے کسانوں نے دائیں بازو کی مودی سرکار اور اس کے آقا سرمایہ دار مالکان کو شکست کی دھول چٹا کر تینوں رجعتی زرعی قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ کسانوں کی عظیم فتح ہے جو ستمبر 2020ء سے جاری شاندار جرات مندانہ اور ثابت قدم جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

31 اکتوبر بروز اتوار رسمی طور پر کوپ 26 (COP26-Conference of Parties؛ اقوام متحدہ کی 26ویں کانفرنس برائے ماحولیاتی تبدیلی) کے مذاکرات شروع ہوئے، جو ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی حالیہ کانفرنس ہے۔ یہ گلاسگو میں منعقد ہوئی جہاں بورس جانسن نے دو ہفتوں کے مذاکرات، پینل ڈسکشن اور پریس کانفرنس کے لیے دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خوش آمدید کہا، جہاں ماحولیاتی تبدیلی پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔

پیر کے دن جنرل عبدالفتح البرہان کی سربراہی میں عبوری فوجی کونسل (TMC) کے لانچ کردہ کُو کا مقصد اقتدار پر تیز تر اور فیصلہ کن قبضہ تھا۔ لیکن کُو کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خواب و خیال میں کہیں گمان ہی نہیں تھا کہ پورے ملک کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں انقلابی عوام اُٹھ کھڑی ہو گی اور احتجاجوں اور ہڑتالوں کے ذریعے کسی بھی فوجی آمریت کا راستہ روکنے کی جدوجہد شروع کر دیں گے۔ سال 2019ء میں رونما ہونے والے سوڈانی انقلاب سے عوام نے اہم اسباق سیکھے ہیں۔ یہ انقلاب کبھی بھی شکست خوردہ نہیں ہوا تھا۔ تجربہ کار عوام نے فوج کو ایک بند گلی میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب انہیں فیصلہ کن فتح کی ضرورت ہے۔

ایک نئے فوجی کُو کی صورت میں سوڈان کی عبوری حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ سال 2019ء میں عوامی بغاوت اور ردِ انقلاب کے درمیان مفاہمت کا ناگزیر نتیجہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ غم و غصے میں بپھری عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر اتر کر ثابت کر رہی ہے کہ سوڈانی انقلاب کا زور ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ اس مرتبہ فوجی قیادت کے خلاف فیصلہ کن فتح تک نامصالحت جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ 2019 میں عالمی مارکسی رجحان کی جانب سے لکھا گیا آرٹیکل جس میں موجودہ صورت حال کی پیش گوئی کی گئی تھی پڑھنے کیلئے...

امریکہ کے مختلف صنعتی شعبہ جات اس مہینے ہڑتالی لہر (جس کا نام اکتوبر کی مناسبت سے ’سٹرائیک توبر‘ رکھا گیا ہے) کی ضد میں آ گئے ہیں، جن میں شعبہ صحت سے لے کر تعمیراتی شعبہ؛ کارپینٹری سے لے کر کوئلے کی کان کنی کا شعبہ؛ میڈیا سے لے کر مواصلات کا شعبہ؛ سنیک فوڈز سے لے کر اناج کے شعبے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر، اس مہینے ہڑتال کرنے کے حق میں 1 لاکھ محنت کشوں نے ووٹ ڈالا ہے۔

20 اکتوبر کو کورین کنفیڈریشن آف ٹریڈ یونینز (KCTU) کے80 ہزار سے زیادہ ممبران اپنی قیادت کی آواز پر جنوبی کوریا کے 14 علاقوں میں سڑکوں پر آ گئے۔ مزید 50 ہزار محنت کش دوپہر 2 بجے اپنی نوکریوں سے واک آوٹ کر گئے۔