فرانس کی سماجی اور سیاسی صورتحال خوفناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دہلیز پار بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کو آگے دھکیلنے میں کیا چیز فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟

ریولوشن (IMT کا فرانسیسی سیکشن) کے طالب علم ممبران نے مونٹ پیلیئے یونیورسٹی میں ہونے والے عام اکٹھ میں مندرجہ ذیل قراردار منظور کی۔ یہ ٹولوز میں ایک طلبہ کے اکٹھ میں بھی پیش کی گئی(جس پر آج رائے شماری ہو گی) اور اسے نانٹیر اور لیون میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اس میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی حمایت کی گئی ہے اور میکرون کی قابل نفرت حکومت کو گرانے کے لیے ہڑتالوں کی مہم چلانے کا کہا گیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے ییلے یونز (پیلی واسکٹ والوں کے) مظاہرے ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے انقلابی جذبات کی وجہ سے، جن سے اب حکومت کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے، میکرون نے اپنا متکبر رویہ تبدیل کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو ’’معطل‘‘ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔ یہ پسپائی ہفتے کے آخر میں سینکڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان گلیوں میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد دیکھنے میں آئی ہے جن کے نتیجے میں صرف پیرس میں ہی 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور کم از کم ایک جان گئی۔

22 نومبر کے دن میکسیکو سٹی میں موجودلیون ٹراٹسکی میوزیم کے ہال میں پر ایلن وڈز نے انگلستان کے انقلاب پر لیکچر دیا۔ گفتگوکا آغاز کرتے ہوئے ایلن نے کہا کہ پوسٹ ماڈرنسٹ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تاریخ کے کوئی قوانین نہیں ہوا کرتے اور اسے سمجھنا نا ممکن ہے۔ لیکن ہمیں صدیوں کے دوران بار بار دہرائے جانے والے واقعات اور یہاں تک کہ جانے پہچانے کردار بھی نظر آتے ہیں۔ ملتے جلتے مادی حالات سے ایسے تاریخی واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔

لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں دائیں بازو کے رجعتی امیدوار ایوان ڈیوق کو صدر بنے 100 دن کا عرصہ گزر چکا ہے۔ البیرتو کاراسکویلا کی بطور وزیر معاشیات تعیناتی واضح اعلان ہے کہ کولمبیئن محنت کش طبقے پر خوفناک حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کینیڈئن یونین آف پوسٹل ورکرز (CUPW) کے 50 ہزار ممبران 22 نومبر سے سلسلہ وار ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ ٹروڈو کی لبرل حکومت نے ایک نام نہاد قانون ’کام پر واپسی‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جس سے ہڑتالوں کا یہ سلسلہ غیر قانونی ہو جائے گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کینیڈا میں ہڑتال کا حق غصب کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ایک ہڑتال مؤثر ہوتی ہے، اسے غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن ڈاک مزدور شدید غم و غصے میں ہیں اور قوی امکانات ہیں کہ وہ اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کریں گے۔ اس سلسلے میں فوری یکجہتی درکار ہے تاکہ CUPW کے مزدوروں میں یہ احساس مضبوط رہے کہ وہ جدوجہد میں اکیلے نہیں اور کینیڈئن اور عالمی محنت کش ان کے ساتھ بھرپور حمایت میں کھڑا ہے۔

’پیلی واسکیٹ‘ احتجاجی تحریک کا بڑھتا تحرک فرانسیسی طبقاتی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ کسی بھی پارٹی، یونین یا تنظیم کی عدم موجودگی میں لاکھوں افراد نے ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس بڑھوتری کے خلاف اس تحریک میں حصہ لیتے ہوئے نام نہاد حکومتی رعایتوں اور دھمکیوں کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ پیلی واسکیٹ تحریک کو بھاری عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

لیے تویہ کبھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی! جدید ترین اعدادوشمار کے مطابق عالمی ارب پتی طبقے نے 2017ء میں انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ دولت اکٹھی کی۔ ایک طرف مزدوروں، نوجوانوں اور غربا کو بحران کے ایک اور سال میں مزید کفایت شعاری کرنی پڑی ہے تو دوسری طرف UBS کے مطابق امرا کی دولت میں 20 فیصد اضافے کے ساتھ 6.9 ٹریلین پاؤنڈکا اضافہ ہوا ہے۔

(ہ کا دوسرا اور آخری حصہ شائع کر رہے ہیں۔ یہ خطاب جولائی 2001ء میں بارسلونا، سپین میں منعقدہ مارکسی سکول میں کیا گیا۔)

حالیہ مہینوں میں مزدوروں اور طلبہ کے اکٹھ کی سرمایہ نواز چینی ریاست کیخلاف جدوجہد زور پکڑتی جا رہی ہے۔ سرگرم طلبہ کے خلاف خوفناک کریک ڈاؤن اس کی واضح جھلک ہے۔اگرچہ کریک ڈاؤن کی وجہ مقامی JSAIC فیکٹری مزدوروں کی ایک حقیقی آزاد ٹریڈ یونین کی جدوجہد تھی اور حکومت کا سارا جبر ان مزدوروں اور طلبہ کے’JASIC یکجہتی‘ گروہ پر تھا لیکن یہ جھڑپ سماج میں پنپتی سماجی قوتوں کی سیاسی بے چینی کا درست اظہار ہے۔

ہم عالمی مارکسی رجحان کے ال سلواڈور(بلوک پاپولر جووینل)، ہنڈوراس (ازکویرادا مارکسستا) اور میکسیکو (لاازکویرادا سوشلستا) کے کامریڈوں کی جانب سے ان ہزاروں تارکین وطن کے کاروان کے لئے مشترکہ یکجہتی کا پیغام شائع کر رہے ہیں جو وسطی امریکہ سے ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) کی جانب گامزن ہے۔ یہ تارکین وطن شدید تعصب ، میڈیا کی طرف سے حملوں اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ان کی حالت زار پورے خطے کے آلام و مصائب کا اظہار کرتی ہے جو امریکی سامراج اور مٹھی بھر امراء کی پالیسیوں سے برباد ہو چکا ہے۔

اگرچہ گزشتہ چند مہینوں میں برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے بطور رقاصہ مضحکہ خیز ثابت ہوئی ہے لیکن ایک معاملے میں اس کی ماہرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ جو کام کل کیا جا سکتا ہے اسے پرسوں پر ڈال دو! یقیناًاس کی معاونت ماہر اساتذہ نے ہی کی ہے یعنی یورپی قائدین، جو پچھلی ایک دہائی سے سیاسی کھچڑی پکانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ لیکن مے اور اس کے مذاکراتی شریک جتنے مرضی پینترے بدل لیں، وہ حتمی نتائج سے بچ نہیں سکتے۔ آئیں بائیں شائیں کرنے کے باوجود برطانیہ اور یورپ ایک لرزہ خیز دھماکے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ بس سوال ہے کہ آخر کب تک!

Upcoming Events
No events found