29 ستمبر بروز منگل دہلی ہسپتال میں ایک دلت خاتون دم توڑ گئی، جس کو اتر پردیش کے ضلع ہتھ رس میں چار مردوں نے اجتماعی زیادتی اور اذیت کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے سے ملک بھر کی عوام میں شدید غصّہ پھیل رہا ہے۔ اس بھیانک اور وحشی حملے نے ایک بار پھر اس بربریت کی نشاندہی کر دی جس کا سامنا بھارت کی غریب اور نچلی ذات کی خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے اور جس کی جڑیں اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں۔

ہم محنت کشوں، طلبہ کارکنان اور دنیا بھر کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیٹی کی جدوجہد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔ اس کے لیے اس بیانیے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور سوشل میڈیا پر مندرجہ ذیل ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تصوریں اور اپنے بیانات لگائیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ عرصے میں ہونے والی جنگ، سوویت یونین کے انہدام اور سرمایہ داریانہ بحالی کی خونی میراث ہے۔ یہ ایک بربریت زدہ جنگ ہے جس میں چاروں اطراف رجعتیت کا غلبہ ہے۔ اس جنگ میں مداخلت کرنے والی تمام سامراجی قوتیں مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں لیکن اصل مظلوم دونوں اطراف کا محنت کش طبقہ ہے جو اپنے قائدین کے سفاک اور رجعتی کھلواڑ کی قیمت اپنے خون سے ادا کر رہا ہے۔ صرف عالمگیریت اور طبقاتی جدوجہد محنت کشوں کو اپنے حقیقی دشمنوں، یعنی ان کے اپنا سرمایہ دار طبقے، کے خلاف صف آراء کر سکتی ہے۔