Urdu

دنیا بھر میں اُبھرتی ہوئی طبقاتی جدوجہد کی لہر ویتنام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کے تحت ویتنامی محنت کش طبقے کی پرتیں خود رو طور پر زبردست جدوجہد میں شامل ہورہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی حکومتی کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام (وی سی پی) کے اقدامات سے بھی ہو رہی ہے، جس کی قیادت دہائیوں کے طاقتور ترین قائد کے ہاتھوں میں ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے عوام کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اگرچہ ویتنامی سماج میں موجود کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے بیان بازیاں کی ہیں، مگر ساتھ ہی اس نے جبر میں بھی اضافہ کیا ہے۔

پچھلے مہینے ہولناک معاشی بحران میں گھری سری لنکن عوام نے دارالحکومت کولمبو میں صدارتی محل پر دھاوا بول دیا جس کے بعد عوامی نفرت کا شکار گوٹا راجاپکشا دُم دبا کر بھاگ گیا اور کچھ ہی دنوں بعد اس نے استعفے کا اعلان کر دیا۔ ان واقعات کے ساتھ ہی حکمران طبقے کے نمائندوں میں خوف و ہراس سے لبریز شدید بحث مباحثہ شروع ہو گیا کیونکہ دنیا میں کسی اور جگہ ایسے واقعات کے رونما ہونے کے امکانات نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

23 تا 26 جولائی کو عالمی مارکسی رجحان کے زیر اہتمام عالمی مارکسی یونیورسٹی 2022 کا انتہائی کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس کی کامیابی توقعات سے بھی بڑھ کر تھی۔ کل ملا کر 7,333 لوگوں نے دنیا بھر سے رجسٹریشن کی، جو پچھلی یونیورسٹی یعنی 2020 سے 1000 سے زائد افراد کا اضافہ ہے۔

8 جولائی کے دن مقامی وقت شام پانچ بجے کے کچھ منٹ بعد شِنزو آبے کی موت کا اعلان کر دیا گیا۔ جاپان کے سابق وزیر اعظم اور پچھلی ایک دہائی میں جاپان سمیت مشرقی ایشیاء کے اہم ترین بورژوا سیاست دان کو لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) کے ایک ممبر کی حمایت میں انتخابی مہم کے دوران قتل کر دیا گیا۔

50.48 فیصد ووٹوں کے ساتھ، گستاوو پیٹرو اور فرانسیا مارکیز نے کولمبیا کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے امیدوار روڈولفو ہرنینڈز کے خلاف انتخابی مقابلہ جیت لیا ہے۔ پیٹرو، مارکیز اور پیکٹو ہسٹریکو کی فتح کی تاریخی اہمیت کو چھوٹا نہیں سمجھا جا سکتا۔ گستاوو پیٹرو کولمبیا کی تاریخ میں بائیں بازو کا پہلا صدر بن گیا ہے۔ یہ کامیابی کولمبیا جیسے ملک جہاں سرمایہ دارانہ طبقے نے عام طور پر جلاد کا کردار ادا کیا ہے، میں جاری طبقاتی جدوجہد میں ایک اہم موڑ ہے۔

یوکرین میں تاحال جنگ جاری ہے، جہاں امریکی اور برطانوی سامراج اپنے مفادات کے لیے تنازعہ کو طول دے رہے ہیں۔ جبکہ ہتھیار بنانے والی کمپنیاں خوب منافعے کمانے میں مصروف ہیں۔ جنگ کی ہولناکیوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے لڑنا ہوگا۔

وکرین پر روسی فوج کشی کو 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ اس وقت جنگ بندی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ابتداء میں روس نے کیف، سومی، چرنیہیف اور خارکیف کے گرد علاقوں پر تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ بعد میں ان علاقوں سے پسپائی پر مغرب نے جو مغرور بڑھک بازی کی آج وہ قنوطی مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روسی افواج برتر توپ خانے کے ساتھ دونباس میں سُستی لیکن ثابت قدمی سے بڑھ رہی ہیں۔ یوکرین کے نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی پابندیوں کے باوجود روس اپنی آئل اور گیس کی کمائی کو قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ پابندیاں عالمی معیشت کو ایک نئی خوفناک کساد بازاری میں دھکیل رہی ہیں۔

ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ یونین (RMT) نے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا ہے، ٹوری پارٹی اور مالکان یونینوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس ساری صورتحال میں برطانیہ میں طبقاتی کشمکش تیز ہو رہی ہے۔ غلیظ پریس ”طبقاتی جنگ“ کا شور مچا رہا ہے۔ وہ پہلی مرتبہ سچ بول رہا ہے۔

براعظم امریکہ کے ممالک کی سربراہی کانفرنس روایتی طور پر ایک دکھاوا ہے جس میں شمالی اور جنوبی امریکی براعظموں کے سربراہان باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں اور خیر سگالی کے اعلامیے جاری کرتے رہتے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن نے 6 تا 10 جون کو لاس اینجلیس میں جس کانفرنس کی سربراہی کی وہ ایک ایسی ہزیمت ثابت ہوئی جس سے پوری دنیا کو واضح ہو گیا کہ اب امریکہ کا اپنے ہی پچھواڑے میں تسلط کمزور ہو رہا ہے۔

13 جون کو ایکواڈور میں کنفیڈریشن آف انڈیجینس نیشنلٹیز (CONAIE) کی جانب سے معاشی حالات میں بہتری کے لیے ملک گیر ہڑتال کا آغاز کیا گیا۔ مطالبات میں پٹرول کی قیمتوں کو منجمد کرنا، بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کنٹرول اور نجکاری کے منصوبے کی مخالفت شامل ہے۔ یہ مطالبات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہی میں عائد کردہ پابندیوں کو للکارتے ہیں۔

4 جون 2022ء بروز ہفتہ بنگلہ دیش کے چٹاگانگ ڈسٹرکٹ میں ڈچ-بنگالی ملکیت میں BM Inland Container Depot میں ایک بڑے دھماکے بعد آگ لگ گئی جس میں 49 افراد شہید اور تقریباً 300 زخمی ہو گئے۔ ابھی تفصیلات آ رہی ہیں لیکن یہ واضح ہو رہا ہے کہ مالکان کے منافعوں کے لیے مرنے والے محنت کشوں کے لاتعداد واقعات میں ایک اور کا اضافہ ہو چکا ہے۔

کینیڈا میں تیل کی قیمتیں تقریباً 2 ڈالر فی لیٹر تک بڑھ گئی ہیں۔ سال کے آغاز سے اب تک 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ محنت کش طبقے کے خاندانوں پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اخراجات صوابدیدی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مزدوروں کے پاس ان بلند قیمتوں کو ادا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کینیڈین عوام اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کام پر آنے جانے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو اب تیل کی مہنگی قیمتوں سے جان چھڑانے کیلئے ایک منصوبہ بند معیشت کی اشد ضرورت ہے۔

اس وقت پوری دنیا کی توجہ یوکرین جنگ پر مرکوز ہے لیکن بحر الکاہل میں امریکہ اور چین کے درمیان اسی اہمیت سے بھرپور ایک اہم ٹاکرا شدت اختیار کر رہا ہے جس کا ایک ہی ہدف ہے کہ اس اہم خطے میں کس ملک کا تسلط ہو گا؟ درحقیقت اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا سارا محور بڑھتے چینی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

عالمی مارکسی رجحان کے ہسپانوی سیکشن کے کامریڈز نے ویٹوریا گاستیز میں موجود کینیڈین ملٹی نیشنل کمپنی لینامار کے محنت کشوں سے ملاقات کی۔ وہ مالکان کے خلاف اجرتوں کو منجمد کرنے اور کام کی جگہ پر حالات مزید خراب ہونے کے خلاف مکمل ہڑتال پر ہیں۔ ان کی مثالی جدوجہد پر رپورٹمندرجہ ذیل ہے۔

ریلوے ملازمین نے ملازمتوں اور حفاظت کے لیے ہڑتال کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا ہے۔ جبکہ، ٹوری پارٹی یونین مخالف قوانین کو پر فیصلہ کن حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ٹریڈ یونین تحریک کو لڑاکا اور متحدہ جدوجہد کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔

عالمی مارکسی رجحان کے امریکی سیکشن، ’سوشلسٹ ریوولوشن‘، نے امریکہ اور کینیڈا میں سٹار بکس کے ملازمین کی یونین بنانے کی جدوجہد کو پہلے دن سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ فالو کیا ہے۔ اس وقت سینکڑوں سٹورز نے یا تو یونین قائم کرنے کے لیے ووٹ دیا ہے یا وہ تنظیم سازی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ہم اس وقت جاری کمپئین، جس میں فارچون 500 کمپنی کو یونین تسلیم کرنے اور یونین معاہددے پر بات کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے سے ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی خوراک کی اشیاء کی سبسڈی میں کٹوتیوں کے بعد خود رو احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہے۔ کوکنگ آئل، مرغیوں، دودھ اور انڈوں جیسی بنیادی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 300 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتوں میں ایک کلو آٹے کی قیمت میں 500 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سبسڈی کی کٹوتیوں کے نتیجے میں پاستا کی قیمت میں بھی 169 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے عوام کے حالات انتہائی بدتر ہو گئے ہیں، جو ایسے رد عمل کو جنم دے رہا ہے جس میں محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جڑت قائم کی جا رہی ہے، نتیجتاً ایک دھماکہ خیز مرکب تیار ہو رہا ہے۔

ترکی کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے معاشی بحران نے ترکی کے حکمران طبقے کو سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ حکومتی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) اور انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اس کی حمایتی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کے اندر تقسیم اور دراڑیں نظر آنے لگی ہیں۔ یہ واقعات انقلاب کا پیش خیمہ ہیں۔

سری لنکا میں ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز ہوئے ایک مہینہ گزر گیا ہے، جس نے حکمران طبقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس تحریک نے قابلِ تعریف ثابت قدمی دکھائی ہے۔ نہ مون سون کی بارشیں، نہ سنہالی نئے سال کی تقریبات، اور نہ ہی ہر ممکن حربے سے واقف حکومت کی چالیں عوام کے غصّے کو ٹھنڈا کر سکی ہیں۔ مگر اس کے باوجود صدر گوٹابیا راجاپکشا اقتدار پر سختی سے قابض ہے، جس کی موجودگی عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔