Urdu

ایران کی بدنامِ زمانہ اخلاقی پولیس (گشتِ ارشاد) کے ہاتھوں نوجوان کرد لڑکی ژینا مھسا امینی کے قتل کے خلاف ایران بھر میں احتجاجوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملا ہے۔ احتجاجوں کا آغاز ایران کے کرد علاقوں میں ہوا اور اس کے بعد وہ ملک کے بڑے شہروں سمیت 30 سے زائد شہروں تک پھیل گئے، جن میں تہران، مشھد، اصفہان، کرج، تبریز اور نام نہاد مقدس شہر قم شامل ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز پولیس تشدد کے خلاف ردعمل کے طور پر ہوا تھا مگر جلد ہی اس میں پوری ریاست کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کیا جانے لگا۔

9 جولائی کو سری لنکا کے احتجاجی عوام بڑی تعداد کے ساتھ کولمبو میں موجود صدر گوٹابایا راجاپکشا کی رہائش میں گھس گئے۔ یہ پورے ملک میں مارچ سے جاری احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج تھا۔ انہوں نے اس سے پہلے ہی تین حکومتی کابینوں، مرکزی بینک کے گورنر، اور گوٹا کے اپنے بھائیوں کوعہدوں سے دستبردار کروایا تھا۔ گوٹا کے بھائیوں میں سے ایک وزیرِ خزانہ باسیل راجاپکشا، اور دوسرا تب کا طاقتور وزیراعظم مہندا راجاپکشا تھا جسے 9 مئی کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔

برطانیہ پر سب سے طویل حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کا دور ماضی کے استحکام کی علامت تھا۔ اس کی موت نئے بحرانی دور کا اعلان ہے۔۔۔برطانوی اسٹیبلشمنٹ کا ایک اور ستون منہدم ہو کر انقلابی مستقبل کا اعلان کر رہا ہے۔

لز ٹرس ٹوری پارٹی قیادت کی دوڑ جیت کر برطانیہ کی نئی وزیرِ اعظم بن چکی ہے۔ اسے وراثت میں دیو ہیکل بحران ملے ہیں۔۔۔بے قابو توانائی کی قیمتیں اور ”سٹیگ فلیشن“ (بے قابو افراطِ زر اور جمود کا شکار معیشت) اور محنت کش تحریک کا سیلاب۔ مستقبل انقلابی دھماکوں سے لبریز ہے۔

30 اگست کو سوویت یونین کا آخری سربراہ میخائیل سرگے وچ گورباچوف 91 سال کی عمر میں مر گیا۔ سوویت یونین میں ’اوپر سے‘ اصلاحات کرنے والی اس کی پالیسیاں، جسے وہ گلاسنوست (کشادگی) اور پیریسترائیکا (تعمیرِ نو) کے نام سے کر رہا تھا، سٹالنسٹ افسر شاہی کی مراعات برقرار رکھنے اور سوویت معیشت کے بدترین تضادات حل کرنے کی ایک آخری ناکام کوشش کا اظہار تھا۔ ان اقدامات کی ناگزیر ناکامی نے روس کے اندر سرمایہ داری کی بحالی، منصوبہ بند معیشت کی تباہی، اور لاکھوں افراد کو غربت میں دھکیلنے کے لیے راستہ کھول دیا۔ یہ بربادی گورباچوف کا ورثہ ہے۔

24 اگست کو ساؤتھ افریقن فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز اور کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز کے ہزاروں محنت کشوں نے افریقہ بھر میں سڑکوں پر نکل کر شدید مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا، جس نے محنت کش طبقے اور غرباء کو بالخصوص سخت متاثر کیا ہے۔

انقلابِ روس نے تمام فنون کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا، بالخصوص سینما کے اندر، جس کو زیگا ورتوف اور سرگے آئزنسٹائن جیسی شخصیات نے نئی بلندیوں تک پہنچایا، جو فلم کو طبقاتی جدوجہد کا ہتھیار سمجھتے تھے۔ اگرچہ سوویت یونین کی سٹالنسٹ زوال پذیری اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوئی، مگر فلم سازی کے میدان میں اکتوبر انقلاب کے ورثے کو آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹِف میک لیم نے کاروباریوں سے ایک ملاقات میں کہا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں اور محنت کشوں کے معیارِ زندگی پر حملے کریں تاکہ افراطِ زر کو قابو کیا جا سکے۔ اگرچہ کمپنیاں تاریخی منافع ہڑپ کر رہی ہیں اور کوئی ایسا ثبوت نہیں جو ثابت کرے کہ اجرتوں اور افراطِ زر کا کوئی باہمی تعلق ہے، کینیڈا کا سب سے اہم بینکار اصرار کر رہا ہے کہ محنت کشوں پر جبر لازم ہے۔ اس سے بڑا اور کیا ثبوت چاہیئے کہ سرمایہ داری محنت کش دشمن ہے اور محنت کشوں کو اس کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی۔

امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی نے حال ہی میں تائیوان کا دورہ کیا ہے جس کے بعد تائیوانی قومی سوال ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کی توجہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ تائیوان ایک آزاد ریاست ہے لیکن چینی حکومت کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ یہ جزیرہ اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ امریکہ نے اس دوران دہائیوں اپنا موقف دانستہ طور پر مبہم رکھا ہے۔ اس دانستہ توازن کے تابوت میں پیلوسی کا دورہ ایک اور کیل ثابت ہو رہا ہے جس کے بعد پورا علاقہ عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے۔

حکمران طبقے کے حملوں کے خلاف ہڑتالوں اورتحریکوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔ جیتنے کے لیے محنت کشوں اور نوجوانوں کو لڑاکا حکمت عملی، جرات مندانہ سوشلسٹ پالیسیوں اور واضح انقلابی تناظر سے مسلح ہونا ہوگا۔

جرمن حکومت کو مجبوراً گرم پانی راشن کرنا پڑ رہا ہے، سڑکوں پر بتیاں مدہم ہو رہی ہیں اور جو سنٹرل ہیٹنگ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ان کے لئے مخصوص گرم ہال تیا ر کئے جا رہے ہیں کیونکہ سردیوں میں جرمنی کا درجہ حرارت نکتہ انجماد سے بہت کم ہو جانا معمول ہے۔ کئی جرمن سردیوں میں گرمائش کے لئے لکڑیاں اکٹھی کر رہے ہیں کیونکہ پیش گوئیاں ہو رہی ہیں کہ گیس سپلائی 2023ء کے آغاز تک ختم ہو جائے گی۔ یورپ کی سب سے طاقتور معیشت میں محنت کش طبقے کا یہ مستقبل ہے۔

دنیا بھر میں اُبھرتی ہوئی طبقاتی جدوجہد کی لہر ویتنام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کے تحت ویتنامی محنت کش طبقے کی پرتیں خود رو طور پر زبردست جدوجہد میں شامل ہورہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی حکومتی کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام (وی سی پی) کے اقدامات سے بھی ہو رہی ہے، جس کی قیادت دہائیوں کے طاقتور ترین قائد کے ہاتھوں میں ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے عوام کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اگرچہ ویتنامی سماج میں موجود کرپشن پر قابو پانے کے حوالے سے بیان بازیاں کی ہیں، مگر ساتھ ہی اس نے جبر میں بھی اضافہ کیا ہے۔

پچھلے مہینے ہولناک معاشی بحران میں گھری سری لنکن عوام نے دارالحکومت کولمبو میں صدارتی محل پر دھاوا بول دیا جس کے بعد عوامی نفرت کا شکار گوٹا راجاپکشا دُم دبا کر بھاگ گیا اور کچھ ہی دنوں بعد اس نے استعفے کا اعلان کر دیا۔ ان واقعات کے ساتھ ہی حکمران طبقے کے نمائندوں میں خوف و ہراس سے لبریز شدید بحث مباحثہ شروع ہو گیا کیونکہ دنیا میں کسی اور جگہ ایسے واقعات کے رونما ہونے کے امکانات نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

23 تا 26 جولائی کو عالمی مارکسی رجحان کے زیر اہتمام عالمی مارکسی یونیورسٹی 2022 کا انتہائی کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس کی کامیابی توقعات سے بھی بڑھ کر تھی۔ کل ملا کر 7,333 لوگوں نے دنیا بھر سے رجسٹریشن کی، جو پچھلی یونیورسٹی یعنی 2020 سے 1000 سے زائد افراد کا اضافہ ہے۔

8 جولائی کے دن مقامی وقت شام پانچ بجے کے کچھ منٹ بعد شِنزو آبے کی موت کا اعلان کر دیا گیا۔ جاپان کے سابق وزیر اعظم اور پچھلی ایک دہائی میں جاپان سمیت مشرقی ایشیاء کے اہم ترین بورژوا سیاست دان کو لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) کے ایک ممبر کی حمایت میں انتخابی مہم کے دوران قتل کر دیا گیا۔

50.48 فیصد ووٹوں کے ساتھ، گستاوو پیٹرو اور فرانسیا مارکیز نے کولمبیا کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے امیدوار روڈولفو ہرنینڈز کے خلاف انتخابی مقابلہ جیت لیا ہے۔ پیٹرو، مارکیز اور پیکٹو ہسٹریکو کی فتح کی تاریخی اہمیت کو چھوٹا نہیں سمجھا جا سکتا۔ گستاوو پیٹرو کولمبیا کی تاریخ میں بائیں بازو کا پہلا صدر بن گیا ہے۔ یہ کامیابی کولمبیا جیسے ملک جہاں سرمایہ دارانہ طبقے نے عام طور پر جلاد کا کردار ادا کیا ہے، میں جاری طبقاتی جدوجہد میں ایک اہم موڑ ہے۔

یوکرین میں تاحال جنگ جاری ہے، جہاں امریکی اور برطانوی سامراج اپنے مفادات کے لیے تنازعہ کو طول دے رہے ہیں۔ جبکہ ہتھیار بنانے والی کمپنیاں خوب منافعے کمانے میں مصروف ہیں۔ جنگ کی ہولناکیوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں سرمایہ داری کے خاتمے کے لیے لڑنا ہوگا۔

وکرین پر روسی فوج کشی کو 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ اس وقت جنگ بندی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ابتداء میں روس نے کیف، سومی، چرنیہیف اور خارکیف کے گرد علاقوں پر تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ بعد میں ان علاقوں سے پسپائی پر مغرب نے جو مغرور بڑھک بازی کی آج وہ قنوطی مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روسی افواج برتر توپ خانے کے ساتھ دونباس میں سُستی لیکن ثابت قدمی سے بڑھ رہی ہیں۔ یوکرین کے نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی پابندیوں کے باوجود روس اپنی آئل اور گیس کی کمائی کو قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ پابندیاں عالمی معیشت کو ایک نئی خوفناک کساد بازاری میں دھکیل رہی ہیں۔

ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ یونین (RMT) نے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا ہے، ٹوری پارٹی اور مالکان یونینوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس ساری صورتحال میں برطانیہ میں طبقاتی کشمکش تیز ہو رہی ہے۔ غلیظ پریس ”طبقاتی جنگ“ کا شور مچا رہا ہے۔ وہ پہلی مرتبہ سچ بول رہا ہے۔

براعظم امریکہ کے ممالک کی سربراہی کانفرنس روایتی طور پر ایک دکھاوا ہے جس میں شمالی اور جنوبی امریکی براعظموں کے سربراہان باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں اور خیر سگالی کے اعلامیے جاری کرتے رہتے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن نے 6 تا 10 جون کو لاس اینجلیس میں جس کانفرنس کی سربراہی کی وہ ایک ایسی ہزیمت ثابت ہوئی جس سے پوری دنیا کو واضح ہو گیا کہ اب امریکہ کا اپنے ہی پچھواڑے میں تسلط کمزور ہو رہا ہے۔