Urdu

جون میں IMT ایک نئی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل (RCI) کی بنیاد رکھے گی جو بہادری اور الول العزمی سے ہر براعظم پر کمیونزم کا بے داغ پرچم لہرائے گی۔ اس مضمون میں ایلن ووڈز تفصیل سے بتاتے ہیں کہ اس تاریخی قدم کے کیا معنی ہیں اور پچھلی عالمی انقلابی تنظیموں کے قیام و انہدام کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے آج کمیونزم کی جدوجہد کے لئے RCI کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔ ہماری تاسیسی کانفرنس کی رجسٹریشن کیلئے یہاں کلک کریں!

10 مارچ کو رفاہ پر حملے کی دی گئی تاریخ گزر چکی ہے لیکن ابھی تک کوئی حملہ نہیں ہوا۔ کیا نیتن یاہو تذبذب کا شکار ہے؟ یقینا جواب نفی میں ہے۔ اسرائیلی حکومت پر بیرونی، خاص طور پر امریکی انتظامیہ کا شدید دباؤ ہے جبکہ اندرونی خلفشار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کیا امریکی دباؤ کی بنیاد بائیڈن کی انسان دوست سوچ ہے؟ ایک مرتبہ پھر جواب ہے یقینا نہیں۔ امریکہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کی مسلسل حمایت کر رہا ہے جس کا ثبوت عسکری امداد میں اضافہ ہے۔ پھر حملے میں تاخیر کی کیا وجہ ہے؟

چینی پراپرٹی مارکیٹ کی بڑی اجارہ دار کمپنی ایور گرانڈ (Evergrande) کے انہدام کے بعد سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت ایک سست رو بحران میں داخل ہو چکی ہے جو اب معیشت کے دوسرے کلیدی شعبوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ یہ بحران اب وہاں پہنچ چکا ہے جہاں سے قرضے جاری ہوتے ہیں، یعنی کہ بینک۔

2-3 مارچ 2024ء کو عالمی مارکسی رجحان (IMT) کے پاکستانی سیکشن لال سلام کی کانگریس کے لیے جمع ہونے والے سینکڑوں کامریڈز کی گونج دار آواز میں ”کالی رات جاوے ہی جاوے، سرخ سویرا آوے ہی آوے“ کے نعروں سے ہال گونجتا رہا۔ یہ ایک ایسا ہفتہ تھا جس نے خوش کن انقلابی رجائیت پسندی کو ایک جنون کے ساتھ طبقاتی جدوجہد کے نئے مرحلے کی تیاری کی عجلت کے احساس کے ساتھ جوڑ دیا۔

درج ذیل متن انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کا مینی فیسٹو ہے جسے تفصیلی بحث کے بعد انٹر نیشنل سیکرٹریٹ نے 7مارچ2024ء کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ یہ دستاویز منظوری کے لئے جون میں منعقد ہونے والی ہماری عالمی کانفرنس میں پیش کی جائے گی، جہاں ہم ایک نئی انقلابی کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تخلیق کا اعلان کریں گے۔

جو شخص لینن کی ذات سے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ لیکن 45 جلدوں پر مشتمل جمع شدہ کام (انگریزی میں) ایک قابل ذکر چیلنج ہے اور اسے عبور کرنے کے لئے ایک زندگی درکار ہے۔ اس لئے ویل ریڈ بُکس پبلیکیشنز کی جانب سے شائع ہونے والی لینن کی سوانح عمری ”لینن کے دفاع میں“ ایک ایسی اشاعت ہے جو باآسانی کسی کو بھی اس کے نظریات اور آج ان کی افادیت سے آگاہی آسان فہم اور مجتمع شدہ شکل میں فراہم کرے گی۔

2اور 3 دسمبر 2023ء کو لانڈھی انڈسٹریل ایریا، کراچی میں ریڈ ورکرز فرنٹ کے زیر اہتمام دو روزہ مرکزی ورکرز سوشلسٹ سکول کا انعقاد کیا گیا۔ سکول میں کراچی سمیت ملک بھر سے عوامی اداروں اور نجی صنعتوں کے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

غزہ شہر پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقتولین کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 3 ہزار لاپتہ ہیں۔ انفرا سٹرکچر کی تباہی و بربادی، ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری، ایمبولینس اور شعبہ صحت سے منسلک افراد کی نشانہ بازی، ان سب نے فلسطینی عوام پر اسرائیلی فوج کی خونخوار بربریت کو واضح کر دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے فلسطین کے خلاف نسل کشی کے آغاز سے ایک مہینے بعد آرگنائزیشن آف پورٹ ڈاکرز آف بارسلونا (OEPB) نے ایک قرار داد منظور کی کہ ”ہماری بندرگاہ سے ایسا کوئی بحری جہاز روانہ نہیں ہو گا جس میں جنگی مواد شامل ہو“۔ یو ایس ٹی پی نامی ایک بندرگاہ کی یونین نے بھی 8 نومبر کو یہی فیصلہ کیا۔

دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بنگلہ دیش اس وقت سیاسی اور سماجی زلزلوں سے لرز رہا ہے۔ حزب اختلاف کے قائدین گرفتار ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر پولیس سے لڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو مظاہرین کی اموات ہو چکی ہے۔

اٹلی کے شہر موڈینا میں عالمی مارکسی رجحان کے کامریڈز نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی میں اور خاص طور پر فلسطین کی ٹریڈ یونین تنظیموں کی جانب سے اپیل کی حمایت میں FIOM نامی دھات کے کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی یونین کے اندر کمپئین کا آغاز کیا۔ ہفتے کے اختتام پر دو ہزار محنت کشوں اور نوجوانوں نے، جن میں مہاجر اور مقامی باشندے بھی شامل تھے، ایک جاندار احتجاج کیا جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیل کی فلسطین پر بمباری اور قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

کافی لیت و لعل کے بعد اسرائیلی فوج نے ہفتہ وار چھٹی کے دن غزہ میں فوج کشی کا آغاز کر دیا ہے۔ لیکن یہ مکمل فوج کشی نہیں ہے۔ اسرائیلی عسکری قائدین کو سمجھ ہے کہ اگر زمین پر ہر گلی میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو ان کے سپاہیوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ وہ حزب اللہ کو جنگ کی وسعت بڑھانے کا کوئی بہانہ بھی نہیں دینا چاہتے کیونکہ لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر ایک دوسرا فرنٹ کھل جائے گا۔ اگر سارا معاملہ یہ ہے تو پھر نیتن یاہو اور اس کے جرنیل کس چیز کی تیاری کر رہے ہیں؟

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کا حملہ ایک حیران کن جھٹکا ثابت ہوا جس نے اسرائیلی انٹیلی جنس اور عسکری قیادت کو حیران و پریشان کر دیا لیکن ہمارے لئے یہ کوئی انہونی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نیتن یاہو کی اسرائیلی تاریخ کی سب سے زیادہ عوام دشمن دائیں بازو حکومت کی جانب سے فلسطینیوں پر جابرانہ ظلم و ستم کا براہ راست نتیجہ ہے۔

یہ خبر کہ ایور گرینڈ کمپنی نے امریکہ میں دیوالیہ سے تحفظ کی درخواست کی ہے، چین کی ریئل سٹیٹ صنعت کی حتمی موت کا نقارہ بجاتی ہے۔ کارپوریٹ دیوالیوں کا سلسلہ، ریئل سٹیٹ کی منڈی میں کساد بازاری، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور عوام کی خرید و فروخت میں گراوٹ نے چین کی حکمران نام نہاد کمیونسٹ پارٹی کے چین کے اندر ”مضبوط معاشی بڑھوتری“ کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

غمزدہ افغان خاندانوں نے SAS (برطانوی سپیشل ائر سروسز)پر ”لڑائی لڑنے کی سکت رکھنے کی عمر کے تمام مردوں۔۔۔چاہے وہ خطرہ ہوں یا نہ ہوں“ پالیسی کے تحت 2010-13ء کے دورانیے میں 80 افراد کو سفاکی سے قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ افغان جنگ کے دوران برطانوی سپیشل فورسز پر اس تازہ جنگی جرم کا الزام ایک گلی سڑی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ پر کاری ضرب ہے۔ اس الزام نے سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی ننگی بربریت کو سر عام ننگا کر دیا ہے۔

(یہ تقریر دنیا بھر کے محنت کشوں کے عظیم استاد، لینن کے ساتھ مل کر روس کے مزدور انقلاب کی قیادت کرنے اور اس کا دفاع کرنے والے عظیم راہنماء لیون ٹراٹسکی کے 83 ویں یوم شہادت کی مناسبت سے شائع کی جا رہی ہے۔ ایڈیٹر)

دنیا بھر کی بدلتی صورتحال اور سیاسی و معاشی بدامنی کے ماحول میں عالمی مارکسی رجحان (آئی ایم ٹی) کی کامیاب عالمی کانگریس 2023ء ایک شاندار اور پرامید موڑ ثابت ہوئی۔ کرونا وبا سے اپنی قوتوں کو دُگنا کرنے کے بعد یہ کانگریس نوجوانوں کے لڑاکا جذبوں اور عزم سے بھرپور تھی۔ کانگریس میں 40 سے زیادہ ممالک سے 400 سے زائد کامریڈز موجود تھے جنہوں نے انقلابی مقصد کے لیے 6 لاکھ 30 ہزار یوروز جمع کیے اور فاتحانہ اعلان کیا کہ ’کمیونسٹ آچکے ہیں!‘۔

مشہور روسی بائیں بازو کے دانشور اورعالم بورِس کاگرلتسکی کو 25 جولائی 2023ء کو روسی سیکورٹی سروسز FSB نے ”دہشت گردی کی حمایت“ کے جرم میں گرفتار کیا۔ اسے سکتفکر (Syktyvkar)، کومی رپبلک (Komi Republic) کے دالحکومت میں منتقل کر دیا گیا، جہاں عدالت نے اس کی عارضی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔ اسے 24 ستمبر تک وہاں حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔