Urdu

’’اگر منڈیلا اور شاویز کی وفات پر سامراج کے سرخیل جریدے اکانومسٹ کی کوریج دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے منڈیلا ہیرو تھا اور شاویز ولن‘‘

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو شہر ترید (دریائے رائن کے کنارے والے پروشیا) میں پیدا ہوئے۔ مارکس کے باپ ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا۔ پورا گھرانہ خوش حال تھا، مہذب تھا مگر انقلابی نہیں تھا۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ 1841ء تک ان کی باقاعدہ طالب علمی آخری منزل کو پہنچ گئی اورانہوں نے ایپیکیوریس کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک فلسفی ہیگل کے عینی ( خیال پرستانہ) نظریے کو مانتے تھے۔ برلن

...

وینزویلا میں 8 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہونے جارہے ہیں اور اس سے پہلے ہی وہاں افواہ سازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اشیا کی قیمتوں میں بدترین اضافے اور معیشت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں بھی اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلاکے صدرماڈورونے اس سارے عمل کوحکومت کے خلاف ایک ’’سست رفتار بغاوت‘‘ (Slow Motion Coup) قراردیاہے۔ سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں کے دوران افراط زر کی شرح 74 فیصد جبکہ اشیا کی قلت کی شرح22فیصد تک جا چکی ہے۔

بجلی، پٹرولیم اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد شاید کوئی کسر باقی رہ گئی تھی کہ اب دوا ساز کمپنیوں کی ’’پرزور فرمائش‘‘ پر ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے پہلے ہی باہر ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے منافعے اور اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ محنت کشوں کی اجرتیں اور غریب عوام کی آمدن میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔

23 نومبر کو جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کے قریب کامونکی میں واقع ماسٹر ٹائل کے گیٹ کے سامنے سینکڑوں برطرف ملازمین نے پر زور احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کش بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور فیکٹری میں ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا جس کے نتیجے میں فیکٹری میں کام بند ہوگیا۔

بالشویک انقلاب کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر کامریڈ لال خان حیدر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کی زوال پزیری کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

صدیوں سے حکمران روس کے ظالم اور جابر بادشاہوں کی سرزمین پر جنہیں زار کہا جاتا تھا اکتوبر 1917ء کا انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ پہلی دفعہ محنت کش، محروم اور صدیوں سے ظلم اور استحصال کا شکار اکثریت نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک مزدور ریاست تشکیل دی۔ عوام کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی ضروریات کا مسئلہ حل ہوا اورانسان تسخیر کائنات کی راہ پر گامزن ہوا جس میں پہلی دفعہ کوئی شخص اس کرہ ارض کی حدود سے باہر نکل کر خلا میں داخل ہوا۔

ڈرون حملے ہوں یا ملالہ کی کتاب کا ’’معمہ‘‘، میڈیا پر ہونے والی ہر بحث و تکرار کو موجودہ نظام کی حدود و قیود تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ آزاد خیال اور قدامت پرست، دونوں طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی عقل اور دانش سرمایہ داری کی اخلاقیات، سیاسیات اور معاشیات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اسلامی پارٹیاں اور دایاں بازو اس سماجی جمود کے عہد میں معاشرے پر چھائی ظاہری رجعت کے بلبوطے پر جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی اور دائیں بازو کے یہ دانشور امریکی سامراج کے جبر و استحصال کے خلاف پائی جانے والی عوامی نفرت کو بنیاد پرستی کے راستوں پر ڈال کر سماج کو ماضی بعید کے اندھیروں میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، سیاسی انتشار

...

’پارٹی ڈسپلن‘‘ کی خلاف ورزی پر اے این پی سے حال ہی میں نکالے گئے سابق وفاقی وزیر، اعظم خان ہوتی نے پارٹی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ 28 اکتوبر کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اسفند یار ولی، افراسیاب خٹک اور ان کے ٹولے نے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض پشتون قوم کا سودا کیا ہے، یہ لوگ اے این پی کے 800شہدا کے خون سے اپنے محلوں کے چراغ روشن کر رہے ہیں، پچھلے پانچ سالوں میں اے این پی کو فروخت کیاگیا، افراسیاب خٹک نے امریکہ سے خفیہ معاہدہ کروایا۔ ۔ ۔‘‘ دوسری طرف اے این پی کی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور اعظم ہوتی کے ہی بیٹے امیر حیدر ہوتی سے جوابی پریس کانفرنس کروائی ہے جس میں امیر ہوتی نے اپنے والد کی مذمت کرتے

...

جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تک بالشویک پارٹی سوشل ڈیموکریٹک انٹرنیشنل کا حصہ تھی۔ 4 اگست 1914ء کو جرمنی کی سوشل ڈیموکریسی نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا اور بالشویزم اور سوشل ڈیموکریسی کے درمیان ایک نا ختم ہونے والا اور غیر مصالحانہ جدوجہد کا دور شروع ہو گیا۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں ہر سربراہ مملکت کا سب سے زیادہ توجہ طلب بیرونی دورہ، امریکہ کا ہوتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں رائج معاشی، سماجی اور اقتصادی نظام کا عالمی سطح پر حتمی آقا امریکہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ تاریخ کی سب سے طاقتور معاشی و سیاسی قوت اور دنیا کا پولیس مین بن کر ابھرا تھا۔ اس سے پیشتر یہ کردار بڑی حد تک برطانوی سامراج ادا کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ماسوائے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے کے، امریکی سرزمین جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی تھی لیکن جنگ کے پانچ سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ میں حالت جنگ کے ایمرجنسی قوانین نافذ رہے۔ ان جبری قوانین کے ذریعے امریکی محنت کشوں کے حقوق صلب کئے گئے اور ان کے بھرپور استحصال سے بڑے

...

کاپوریٹ میڈیااور حکمران طبقات کے اہل دانش تمام تر سماجی تضادات کو حکمرانوں کے مابین سیاسی و معاشی اختلافات تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ عوام کو حکمرانوں کے باہمی اختلافات میں الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داخلی معاشی یا اقتصادی پالیسیاں ہوں یا افغانستان جیسا خارجی مسئلہ، ہمارے سامنے صرف حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی حمایت یا مخالفت کی آپشن رکھی جاتی ہے۔ آج کل حکمران اشرافیہ کے ’لبرل‘ اور ’سیکولر‘ دھڑے پورے زور و شور سے یہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ بہادر اس خطے سے چلا گیا توطالبان اور مذہبی جنونی پاکستان کو تاراج کر دیں گے۔ دوسری طرف ریاست اور حکمران طبقے کے مذہبی بنیاد پرست دھڑے پاکستان کے تمام تر مسائل کی وجہ امریکہ کو قرار دیتے ہیں، اپنے آپ کو

...

شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو گا کہ اس ملک میں کوئی سانحہ، کوئی حادثہ رونما نہ ہو اور ٹیلیوژن کے سکرین پر اندوہناک مناظر دیکھنے کو نہ ملیں۔ دہشت گردوں کے حملے، خود کش دھماکے، قدرتی آفات کی تباہی، قیمتوں میں آئے روز اضافہ، غریب خاندانوں کی اجتماعی خودکشیاں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بچوں یا جسمانی اعضا کی فروخت۔ ۔ ۔ یہ سب یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ اگر دہائیاں نہیں تو کئی سال ضرور بیت چکے ہیں کہ ہر طرف سے سرمایہ داری کی تاریکیوں میں گھرے اس ملک کے عوام نے کوئی پرمسرت خبر سنی ہو۔ محرومی، مایوسی اور عدم استحکام اس ملک کے کروڑوں بد نصیب باسیوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

کراچی ایک دفعہ پھر اخباری سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ پھر سے نام نہاد ’آپریشن کلین اپ‘ شروع کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ بھی ماضی کی روایات کے مطابق پہلے سے زیادہ گندگی اور غلاظت کی صورت میں بر آمد ہو گا۔ صاف اور دو ٹوک وجہ یہ ہے کہ اقتدار پر براجمان حکمران طبقے کے مفادات اور ترجیحات کے تحفظ کے لیے تعفن آمیز درندگی کی اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور سکیورٹی ادارے جرائم پیشہ افراد (یعنی خود اپنے) خلاف شفاف اور غیر جانبدارانہ آپریشن کا ناٹک کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ سنجیدہ بھی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ان کے دل میں اچانک معصوم شہریوں کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ کچھ بے لگام اور ناپسندیدہ قاتلوں کی جگہ اطاعت شعاراور ہونہا درندوں کو لا کر

...

30 ستمبر کی آدھی رات کو واشنگٹن کے حکمران ایوانوں (کیپٹل ہل) میں امریکی سیاست دانوں کے مابین تکرار اپنی انتہا پر تھی۔ ہر کوئی دوسرے کو امریکی حکومت کا بجٹ پاس نہ ہونے پر حکومتی اداروں کی بندش کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہا تھا۔ حکومتی اداروں کی اس تالہ بندی سے آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ 13لاکھ سے زائد محنت کشوں کو بغیر اجرت کے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ 10 دن سے امریکہ کے ریاستی ادارے بند ہیں اور امریکی فوج کے سوا ہر شعبے، ایجنسی اور ادارے (بشمول خلائی ایجنسی ناسا) کے ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ صرف انتہائی لازمی شعبوں مین مخصوص ہنر رکھنے والے ملازمین کو فارغ نہیں کیا گیا مثلاً انٹرنیشنل خلائی سٹیشن میں موجود خلابازوں کو آکسیجن اور دوسری تکنیکی

...

تیونس اور مصرکے انقلابی واقعات سے متاثر ہو کر شام میں پھوٹنے والی انقلابی لہر، زوال پذیری کا شکار ہوکر فرقہ وارانہ خونریزی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایک انقلابی قیادت سے محرومی کے باعث امیدیں المیوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف امریکی سامراج کا منافقانہ اور دھمکی آمیزتذبذب مضحکہ خیزہے اور واضح طورپر امریکی طاقت کی حدودوقیود کو ظاہرکرتاہے۔ طویل عرصے سے امریکہ اپنے آپ کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھتا‘ تاہم شام کی صورتحال پر اوباما کی ہچکچاہٹ نے دنیا میں طاقتوں کے نئے توازن کو عیاں کیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ سب سے بڑی سامراجی طاقت ہے، امریکہ کی زیر سرپرستی ’’امریکی امن‘‘کی خواہشیں تتر بتر ہوچکی ہیں جس کے انتہائی دوررس اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ 12 سالوں کی بدترین خونریزیوں

...

عرب انقلابات سے مشرقِ وسطیٰ کی حکمران اشرافیہ کے مابین تنازعات پھٹ پڑے ہیں۔ اپنے اپنے ممالک میں محنت کشوں کی تحریکوں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ وہ خطے میں بالادستی کے لیے آپس میں بھی لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں دوست دشمن اور دشمن دوستوں میں بدل چکے ہیں۔ تاہم ان حکمرانوں کے طبقاتی مفادات واضح ہیں اور وہ ہر قیمت پر اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام کے جبر اور اپنی پر تعیش زندگیاں بچانا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے مجتمع ہونے والے تضادات اب پھٹ رہے ہیں اور سرمائے کی حکمرانی میں سٹیٹس کو اور حالات کو معمول پر رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے افق پر ایک نئی جنگ کی تاریکی پھیل رہی ہے۔ جنگی جنون میں بدمست سرمائے کے منصوبہ ساز، شامی صدر بشار الاسد کو نوچ کھانے کے لیے غرا رہے ہیں۔ اکانومسٹ کے تازہ ترین شمارے کے ادارئیے کا عنوان ’’زور سے مارو‘‘ تھا اور سرِ ورق بشار الاسد کے چہرے کو چیرتی ہوئی کفن میں لپٹی لاشوں کی تصویر پر مشتمل تھا۔ اداریے کے اختتامی الفاظ تھے کہ ’’اگر اسد ذاتی طور پر امریکی میزائلوں کا نشانہ بنتا ہے تو بننے دو،وہ اور اس کے حواری خود زمہ دار ہیں۔ ‘‘دوسری جانب صدر اوباما کی ہچکچاہٹ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے جو اب اضطراب میں تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکہ کا دائیں بازو کا پریس ’محدود حملے‘ کی پالیسی پر نالاں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے طبل بج رہے ہیں۔ امریکی سامراج بحر روم میں شام کے قریب اپنا بحری بیڑہ لنگر انداز کئے ہوئے ہے اور اس برباد ملک پر بارود کی برسات کرنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سوموار کو پریس کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام بشارالاسد کی حکومت پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب شام کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور رجعتی عرب بادشاہتوں کے پروردہ مذہبی جنونیوں کو اس کیمیائی حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق ابھی تک حتمی طور پر مجرم کا تعین نہیں کیا جاسکتا اور تفتیش کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ روس، جوکہ اس تنازعے کا اہم فریق ہے، کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ کیمیائی

...

’’اس میزائل گردی سے انفراسٹرکچر، توانائی اور پانی کی فراہمی کے ذرائع کی جو تباہی ہوگی اس کاخمیازہ کون بھگتے گا؟ وہ بچے، بوڑھے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ اس جارحیت کی زد میں آئیں گے جن کا رونا رو کر امریکہ سامراجی جارحیت کرنے کی طرف جارہا ہے‘‘