Urdu

پوری دنیا کے حالات بجلی کی سی رفتار سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس نئے کرونا وائرس (9-COVID) نے ایک کے بعد دوسرے ملک میں ظاہری استحکام کا پول کھولنا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تمام تضادات سطح پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

پورے یورپ میں کرونا وائرس نے سب سے زیادہ تباہی اٹلی میں مچائی ہے۔ یہ صورتحال حکومت کی دائمی ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے جس کے اقدامات تاحال مکمل طور پر ناکافی رہے ہیں اور اس کی پوری کوشش ہے کہ ان حالات کا معاشی بوجھ محنت کش طبقے کے کندھوں پر ڈال دیا جائے۔

کرونا وائرس کی حالیہ وباء سے ایران خاص طور پر شدید متاثر ہوا ہے جس میں ریاستی بیوقوفیوں، غلط بیانی اور امریکی پابندیوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس بحران نے گلی سڑی ایرانی سرمایہ داری کو مزید ننگا کر دیا ہے اور ریاست کے خلاف پہلے سے ابلتا شدید عوامی غم و غصہ اب چھلکنے کو تیار ہے۔

محنت کش خواتین کے عالمی دن پر ہم اپنے قارئین کے لیے مارکسی استاد اور انقلابِ روس کے عظیم قائد لینن کا ایک انٹرویو شائع کر رہے ہیں جو کہ جرمن کمیونسٹ رہنما کلارا زیٹکن نے کیا۔ اس انٹرویو میں لینن عورت کے سوال، اس کے مختلف پہلوؤں، محنت کش خواتین کو منظم کرنے، مزدور تحریک کے ساتھ اس کے تعلق اور عورت کی نجات کے لیے سوشلسٹ سماج کی جدوجہد پر روشنی ڈالتا ہے۔

كان صعود النظام الإقطاعي، في أعقاب انهيار روما، مصاحبا بمرحلة طويلة من الركود الثقافي في كل أنحاء أوروبا شمال جبال البيرينيه. وباستثناء اختراعين فقط هما: دولاب الماء وطواحين الهواء، لم تحدث آنذاك أي اختراعات حقيقية طيلة أكثر من ألف سنة تقريبا. وبعد مرور ألف سنة على سقوط روما، بقيت الطرقات اللائقة الوحيدة في أوروبا هي الطرق الرومانية. وبعبارة أخرى كان هناك كسوف كامل للثقافة. وقد كان ذلك نتيجة لانهيار القوى المنتجة التي تعتمد عليها الثقافة في نهاية المطاف. هذا ما نعنيه بالخط التنازلي في التاريخ، وهو الشيء الذي يجب ألا نتخيل أن تكراره مستحيل.

ریڈ ورکرز فرنٹ کی جانب سے بنائی گئی یہ دستاویزی فلم ایک ٹیکسٹائل مزدور کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ گو کہ اس مختصر دورانیے کی فلم میں ملتان کے علاقے شریف پورہ میں پاور لومز میں کام کرنے والے ایک مزدور کے تلخ حالات زندگی کو فلمایا گیا ہے مگر یہ ہرپاکستانی مزدور و محنت کش کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔ وہی محنت کش جو اپنی محنت سے تمام تر دولت پیدا کرتے ہیں۔ جن کے دم سے یہ ساری رنگا رنگی ہے۔ ہمارے گرد یہ ساری چکا چوند ان مزدوروں کی محنت کی بدولت ہے۔ مگر جن کی اپنی زندگیاں گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بسر ہوتی ہیں۔ جنم سے لے کر موت تک ان کی زندگیوں کا ہر لمحہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ زندگی کی جہنم میں گزارہ کرنے کے لیے ہر گھڑی مرتے ہیں۔

آج شام لاہور کے علاقے بیگم کوٹ میں واقع آٹو سپئیر پارٹس بنانے والی فیکٹری راوی آٹوز میں مالکان کے بھیجے ہوئے کرائے کے غنڈوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے رضوان نامی ایک محنت کش کو قتل جبکہ دو کو شدید زخمی کر دیا۔ فیکٹری میں پچھلے کئی ماہ سے بڑے پیمانے پر جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری تھا جبکہ مزدوروں کو پوری اجرت بھی نہیں دی جا رہی تھی۔ اس پر جب یونین نے احتجاج کا اعلان کیا تو فیکٹری مالک کامران افضل کی جانب سے محنت کشوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں جن پر عمل کرتے ہوئے آج اس کے بھیجے ہوئے غنڈوں نے مزدوروں کے رہائشی کوارٹرز میں گھس کر آرام کرتے مزدوروں پر فائر کھول دیا۔ اطلاعات کے مطابق فیکٹری کا مینیجر بھی نہ صرف موقع پر موجود تھا بلکہ غنڈوں کو ہدایات دینے میں بھی پیش پیش

...

مجھے ابھی ابھی اپنے ایک عزیز دوست اور کامریڈ تنویر گوندل (جنہیں یہاں لال خان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے: مترجم) کی وفات کی خبر ملی ہے۔ وہ پچھلے کچھ عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھا، مگر اس کے باوجود اس کی وفات کی خبر نہایت درد ناک ہے۔

امریکہ میں یہ سال صدارتی انتخابات کا سال ہے جس کے حوالے سے بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن میں موجود ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوارکومنتخب کرنے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے جس میں تمام امریکی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبران حصہ لیں گے اور اس دوڑ میں شامل درجن سے زائد امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ یہ صدارتی امیدوار نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں ٹرمپ کا مقابلہ کرے گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے امیدوار کے انتخاب کے عمل کا آغاز روایتی طور پر آئیوا کی ریاست سے کر دیا ہے۔ آئیووا میں صدارتی امیدوارکے لیے ہونے والی ووٹنگ کے دوران دھاندلی کے شرمناک واقعے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کا اصل چہرہ ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے کہ یہ امریکی حکمران طبقے

...

چین میں کورونا وائرس کی وبا ایک خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تا دم تحریر،چین میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد6ہزار (اب یہ تعداد لگ بھگ 24ہزار کو پہنچ چکی ہے) تھی جن کی اکثریت کا تعلق ہوبے صوبے کے دارالحکومت ووہان سے ہے۔تاہم نو اور صوبوں سے بھی سو سے زائد حتمی کیسز کی رپورٹ آئی ہے، جن میں سے بیشتر مریضوں کا تعلق صنعتی صوبوں ژی جیانگ اور گوانگڈونگ سے ہے۔کورونا وائرس اب چین سے نکل کر تھائی لینڈ، آسٹریلیا اور امریکہ تک پھیل رہا ہے۔

سماج سے کٹا عالمی حکمران طبقہ اس ہفتے سالانہ ملاقات کے لیے اکٹھا ہوا۔ لیکن اپنے وضع کردہ لبرل نظام کو چاروں اطراف خطرات میں گھرا دیکھ کر دنیا کے امیر ترین افراد اور ان کے نمائندوں کا موڈ مایوس کن اوراداس تھا۔

12 دسمبرکو ہونے والے برطانوی انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل تھے۔ان انتخابات کے نتائج حسب معمول انتہائی غیر متوقع تھے جن میں دائیں بازو کی ٹوری پارٹی بورس جانسن کی قیادت میں واضح اکثریت جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے جبکہ لیبر پارٹی جیرمی کاربن کی قیادت میں بائیں بازو کا انتہائی انقلابی منشور دینے کے باوجود اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس صوتحال کا سائنسی تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل کی جدوجہد کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا سکیں جو اس طبقاتی کشمکش کے شدت اختیار کرنے کا عہد ہے۔

فرانس کے صدرمیکرون کی پینشن ردِ اصلاحات کے خلاف کل (5 دسمبر) کی عام ہڑتال میں پورے فرانسیسی سماج کی ”جدوجہدیں یکجا“ ہو گئیں۔ CGT (ہڑتال کی قائد ٹریڈ یونین) کے مطابق 10 لاکھ 50 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی یعنی 1995ء میں الین جوپے کے ردِ اصلاحات پروگرام کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے بعد تاحال یہ فرانس کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ پیلی واسکٹ تحریک کی روح سڑکوں پر محسوس کی جا سکتی ہے جہاں (قائدین کی محدودیت کے باوجود) محنت کش طبقہ نہ صرف پینشن ردِ اصلاحات بلکہ پوری حکومت کے خلاف اپنے غم و غصے کا براہِ راست اظہار کر رہا ہے۔

ایندھن سبسڈی میں حیران کن کٹوتیوں کے بعد پورے ایران میں پھوٹنے والے احتجاجوں کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ گلی محلوں اور چوکوں چوراہوں پر عوام کی جرأت مند اور دلیرانہ جدوجہد کے باوجود ملا آمریت نے تحریک کو پانچ دنوں میں کچل دیا ہے۔ لیکن یہ آمریت کی فتح نہیں بلکہ آمریت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔

حال ہی میں انتخابی مہم کے دوران بورس جانسن، جیرمی کوربن اور جو سوینسن نے لندن میں برطانیہ کی کنفیڈریشن آف انڈسٹری کی ایک کانفرنس میں چوٹی کے صنعت کاروں سے خطاب کیا۔ سوینسن نے اس بات پر زور دیا کہ لبرل ڈیموکریٹس ”کاروبار کی فطری پارٹی“ ہیں کیونکہ وہ بریگزٹ کو روکنا چاہتے ہیں۔ جانسن نے وعدہ کیا کہ کاروبار پر عائد ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ ”استحکام“ یقینی بنایا جائے گا۔

”یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے“۔ اس شہرہئ آفاق جملے کے ساتھ کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مصنفین نے انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ 1848ء کا سال تھا، جب پورا یورپ انقلاب کی لپیٹ میں تھا۔ لیکن اب ایک بھوت صرف یورپ ہی نہیں پوری دنیا پر منڈلا رہا ہے۔ یہ عالمی انقلاب کا بھوت ہے۔

چند سال پہلے پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر اور بسیجی مسلح جتھے کے درمیان ایک گفتگو کی ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی جس میں 2009ء کی ’سبز تحریک‘ زیرِ بحث تھی۔ اس گفتگو میں کمانڈر نے کچھ اس طرح سے بات کی کہ ”یہ لوگ (گرین تحریک میں شامل افراد) کھاتے پیتے گھرانوں کے خوبرو لونڈے ہیں، ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک مرتبہ تباہ حال اور محروم علاقوں کی بے سروپا عوام سڑکوں پر آگئی تو اس وقت ہمیں واقعی ہم خوفزدہ ہوں گے“۔

وہ دن آ چکا ہے۔

10 نومبر 2019ء کو منعقد ہونے والے ہسپانوی انتخابات کا نتیجہ 28 اپریل کے انتخابات سے زیادہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔ اگرچہ ان انتخابات میں ایک مرتبہ پھر دائیں بازو کو شکست ہوئی لیکن سوشلسٹ پارٹی(PSOE) کی قیادت کا خیال غلط ثابت ہوا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن بنا لیں گے اور UP قیادت کا لائحہ عمل۔۔سانچیز کو شکست اور نئے انتخابات کا انعقاد۔۔بھی غلط ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں ووٹوں اور سیٹوں دونوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ سیاسی پولرائزیشن، جس میں کیٹالان قومی سوال کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، انتہائی دائیں بازو، کیٹالان حریت پسند پارٹیوں، باسک اور گیلیشئین قومی سوال کے استحکام میں اہم ثابت ہوا ہے۔

14 اکتوبر کو سانتیاگو دی چلی میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جسے چلی کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج کہا گیا ہے۔ اور یہ درست ہے کہ یہ ریلی 1988ء میں ”NO“ مہم کی اختتامی ریلی جس میں دس لاکھ لوگ اکٹھے ہوئے تھے، سے زیادہ بڑی تھی۔ 24 اکتوبر جمعہ کے دن پورے ملک میں مختلف شہروں اور علاقوں میں ہونے والی ریلیاں ایمرجنسی نافذ ہونے، سڑکوں پر فوج اتارنے اور پینیرا حکومت کی طرف سے کرفیو لاگو ہونے کے ایک ہفتہ بعد منعقد ہوئیں۔ پورے ملک میں حکومت کے خلاف 20 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر احتجاج کے لئے نکلے۔