Urdu

اس مہینے کے اوائل میں، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ نگرانی قائم انڈیپنڈنٹ پینل نے عالمی سطح پر کرونا وباء کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ حیران کن طور پر اس رپورٹ میں بحران کا الزام انہی لوگوں پر لگایا گیا جو حقیقت میں اس کے ذمہ دار ہیں یعنی سرمایہ دار سیاستدانوں اور مالکان پر۔ ہر جگہ پر موجود بربریت اور بے تحاشا تکالیف کے اس دور میں، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے کرونا وباء کے حوالے سے حکمران طبقے کی سفاکیت کا اندازہ ہوتا ہے، جس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اس وباء کو آسانی سے روکا جا سکتا تھا۔

ساری دنیا کو ایک دفعہ پھر کرونا وباء کی شدت کا سامنا ہے، جس میں نیپال بھی شامل ہے۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر کرونا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، نیپال کی وزارتِ صحت و آبادی کے مطابق کرونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 43 ہزار 418 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اموات کی تعداد 3 ہزار 362 ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے روزانہ 8 ہزار نئے کیس رجسٹر ہو رہے ہیں۔

کورونا وباء کو سولہ ماہ گزر چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس سے اب تک 69 لاکھ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سرمایہ داری اپنی تاریخ کے عمیق ترین بحران میں دھنس چکی ہے اور حکمران طبقات آپس میں پیٹنٹ ختم کرنے، برآمدات پر پابندی لگانے اور اپنے آپ کو سب سے پہلے رکھنے پر کتوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔

ایک نئی انکشافاتی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح سرمایہ داری کا بحران ایک پوری نسل کے مستقبل پر ڈاکہ ذن ہے، خاص کر کورونا وبا کے اُبھار میں جس نے نظام کے گلنے سڑنے کے عمل کو مزید گہرا اور شدید کردیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ابھی تک 65 فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں 16 بچے بھی شامل ہیں، اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غزہ کے علاقے سے مارے جانے والے میزائلوں کے نتیجے میں 6 اسرائیلی لقمہ اجل بنے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا نے ایک دفعہ پھر اسرائیل کی بمباری کو حماس کی جانب سے مارے جانے والے میزائلوں کے خلاف جائز کارروائی کے طور پر پیش کیا ہے۔ البتہ، ہمیشہ کی طرح، انہوں نے اسرائیل اور فلسطین میں اس بحران کی شدت کی اصل وجوہات کے حوالے سے مکمل یک طرفہ مؤقف اپنایا ہوا ہے۔

کرونا وباء کی دوسری لہر نے پورے انڈیا کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے، جہاں روزانہ تقریبا 4 لاکھ نئے کیس رجسٹر ہو رہے ہیں؛ اگرچہ یہ سرکاری اعداد و شمار حقیقت سے بہت کم ہیں۔ ملک بھر کی صورتحال کسی بھیانک خواب کی طرح لگ رہی ہے۔ مگر بالخصوص سماج کی غریب ترین پرتوں کے لیے یہ کسی جہنم سے کم نہیں۔

پیوٹن حکومت، جو اپنی بقا کے لیے بڑھتے ہوئے بے رحم اور ظالمانہ جبر پر انحصار کر رہی ہے، کی بنیادوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہیں۔ حکومت بحران کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور روسی آبادی کی بڑی اکثریت اس پر کھلے عام تنقید کر رہی ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر، سوال ابھرتا ہے کہ؛ روسی وفاق (رشین فیڈریشن) کی کمیونسٹ پارٹی کا رد عمل اب کیا ہوگا؟

7 اپریل 2021ء کو، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول، اور بوسان جہاں اہم بندرگاہ بھی موجود ہے، میں ووٹروں نے حکومتی ڈیموکریٹک پارٹی (ڈی پی) کو زبردست انداز میں مسترد کیا۔ اگرچہ اس کے نتیجے میں قدامت پرست پیپل پاور پارٹی (پی پی پی) نے ان دو اہم شہروں کا اقتدار سنبھال کیا ہے مگر درحقیقت یہ جنوبی کوریا کے عوام کی جانب سے صدر ’مُون جے اِن‘ اور پورے سیاسی اسٹبلشمنٹ دونوں کے خلاف نفرت کا اظہار تھا۔ دنیا بھر کے کئی دیگر ممالک کی طرح، یہاں بھی محنت کش طبقے کے گرد منظم سیاسی متبادل کی اشد ضرورت ہے۔

انگلینڈ بھر میں فٹ بال شائقین کے بڑے پیمانے پر مظاہروں کی بدولت یورپی سپر لیگ کے منصوبوں کو بالآخر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شائقین کی ایک بڑی فتح ہے۔ لیکن ’عام عوام کے کھیل‘ پر منافع خوری اور اس کی لوٹ مار کو روکنے کی لڑائی اب بھی جاری ہے۔

پچھلے موسمِ گرما میں، امریکی ریاست کے اندر کروڑوں افراد نے بلیک لائیوز میٹر کی تحریک میں شرکت کی، جو پولیس کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کے نسل پرستانہ قتل کے خلاف ابھری تھی۔ تقریباً ایک سال بعد، 20 اپریل 2021ء کو، اس کا قاتل ڈیرک شاوین تین الزامات کے تحت سزاوار قرار پایا؛ سیکنڈ ڈگری غیر ارادی قتل؛ تھرڈ ڈگری ”شیطانی ذہنیت“ کے تحت قتل؛ اور سیکنڈ ڈگری قتلِ عام۔ شاوین کو مجرم قرار دیے جانے سے حقیقی انصاف کا دور تک کوئی واسطہ نہیں، جارج فلوئیڈ اور وہ سب جو مسلسل پولیس کے جبر کا شکار ہیں، اب بھی انصاف سے محروم ہیں۔

ترکی پچھلے کئی ہفتوں سے مختلف وجوہات کی بناء پر عالمی سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے۔ ان میں سے ایک اہم خبر 19 مارچ کو مرکزی بینک کے گورنر ناچی آگبال کی برطرفی تھی، جس کے فوری بعد اس کے نائب گورنر کو بھی برطرف کر دیا گیا۔ اردگان کے اس اقدام کے نتیجے میں ایک دن کے لیے لیرا کی قدر میں 15 فیصد کی شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ حیرت میں ڈوبے مین سٹریم بورژوا معیشت دانوں نے اردگان کے اس رویے کو پاگل پن اور غیر متوقع قرار دیا۔ مگر اس پاگل پن کے پیچھے کچھ وجوہات کارفرما ہیں۔ سب سے بڑھ کر، اردگان ایک سماجی دھماکے سے خوفزدہ ہے۔

کورونا وباء کی تباہی کے دوران بھی معیشت کے کچھ حصے نہال ہیں۔ سٹے باز سرمایہ کاری دیوانہ وار جاری ہے۔ مشہور شخصیات کے ہر لمحہ تبدیل ہوتے وقتی فیشن، NFTs اور SPACs اس دیوانہ وار سٹہ بازی کے حالیہ اظہار ہیں۔

21 جنوری 2021ء کو ایک نوجوان محنت کش، جو ویڈیو شئیرنگ کی مشہور چینی ویب سائٹ ’بیلی بیلی‘ پر ایک چھوٹا سا چینل چلاتا تھا اور خاندانی جھگڑوں، بیماری اور اپنے مالک کے ساتھ تنازعے میں گھرا ہوا تھا، شدید غربت کی حالت میں جان کی بازی ہار گیا۔ وہ اپنے کرائے کے فلیٹ میں فاقہ کشی کی حالت میں مرا اور اس کی موت کا کئی دنوں بعد پتہ چلا جب مالک مکان نے اسے مردہ حالت میں پایا۔

میانما ر میں فوجی کو کے بعد انقلابی امکانات سے بھرپور عوامی تحریک پھوٹ پڑی ہے۔ ہڑتالوں اور احتجاجوں کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے جو فوجی تسلط کے خلاف عوامی جدوجہد کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ عسکری قیادت نے اپنی مخالفت میں اٹھنے والی مزاحمت کے حوالے سے غلط اندازے لگائے تھے۔

مہنگائی اور دیگر معاشی حملوں سے بھرپور دہائی کے بعد آنے والی وباء نے عوام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے، جو محنت کشوں اور نوجوانوں کے کندھوں پر رکھے بوجھ میں دن بہ دن اضافہ کر رہی ہے۔ سماج پھٹنے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ ہمیں اس توانائی کو سوشلسٹ جدوجہد کے راستے پر گامزن کرنا پڑے گا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اٹلی میں اس وقت شدید ترین معاشی، سیاسی اور سماجی بحران میں ڈوبا ہوا ہے اور جیو سیپے کونتے کی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماریو در اغی نامی شخص نجات دہندہ بن کر پہنچ گیا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اس بورژوا ٹیکنوکریٹ کے پاس اطالوی محنت کشوں کو درپیش مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔

ایران کے طول و عرض میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ دسمبر کے آغاز سے اب تک 240 ہڑتالیں اور احتجاج ہو چکے ہیں۔ احتجاج سماج کی ہر پرت میں پھیل رہے ہیں جن میں طلبہ، بازاری (تاجر)، ریٹائرڈ حضرات، بے روزگار اور ہر شعبے کے مزدور شامل ہیں۔

گزشتہ روز انڈیا سے کسان راہنما داتار سنگھ گِل کی موت کی انتہائی افسوسناک اور غمناک خبر موصول ہوئی۔ داتار سنگھ مودی سرکار کے خلاف جاری، وقت کے ساتھ پھیلتی اور مضبوط ہوتی کسان تحریک کے سرکردہ راہنماؤں میں سے ایک تھے۔ داتار سنگھ کرتی کسان یونین کے پنجاب میں صدر بھی تھے۔ ان کے خاندان، دوستوں اور کامریڈز سے ہم اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔

30 جنوری کو گلوبل سیکورٹی بل، نام نہاد سیپریٹ ازم بل اور ثقافتی اداروں کی جاری بندش کے خلاف پیرس اور پورے فرانس میں بڑے مظاہرے منعقد ہوئے۔ ان مظاہروں کی قیادت ہزاروں نوجوان کر رہے تھے جو بظاہر لامتناہی جاری رہنے والی وباء کے عرصے میں مسلسل ریڈیکلائز ہو رہے ہیں (چونکہ کیمپس بھی بند ہیں) اور گلی سڑی میکرون حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

6 فروری کے دن تیونس کے دارلحکومت تونس کی سڑکوں پر ہزاروں افراد اسلامی پارٹی انّہداء کے خلاف ”عوام حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں“ کے نعرے لگاتے ہوئے امڈ آئے۔ اس وقت یہ پارٹی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ فساد کش پولیس نے مرکزی تونس میں پہلے ہی ناکہ بندی کر دی تھی تاکہ گاڑیاں اور

...